احتساب، انتقام، انتشار(11اکتوبر 2017)روزنامہ جنگ

اس چیچک زدہ سیاست اور پولیو زدہ جمہوریت پر بات کرنے سے پہلے دو خوشبودا ر کتابوں پر شکریہ اور مختصر سا تبصرہ۔ آغا امیر حسین کا شکریہ کہ آپ نے چند ہفتے پہلے ’’تاریخ میں سفر‘‘ بھجوائی جو زمانہ قبل نبی ﷺ سے زمانہ حال تک کا احاطہ کرتی ہے۔ میں ورق ورق، گھونٹ گھونٹ اسے پڑھتا پیتا رہا، مصنف کو داد اور دعا دیتا رہا۔ یہ شاہکار مکمل کئے دو دن بھی نہ گزرے تھے کہ عبدالمجید منہاس صاحب نے اک ایسا گلدستہ بھجوادیا جس کے پھول ہمیشہ تروتازہ رہیں گے۔ یہ حفیظ تائب مرحوم کی کلیات ہے بعنوان’’کائنات حفیظ تائب‘‘ حمد، نعت، منقبت، نظم اور غزل کی کلیاں۔ حفیظ تائب کا نام سنتے ہی دھیان گمان میں صرف نعت رہ جاتی ہے، باقی سب کچھ محو ہوجاتا ہے۔تیرا دربار ہے عالی آقاؐتیرا کردار مثالی آقاؐتو ہے مظلوم کا حامی شاہاتو ہے نادار کا والی آقاؐاور اب کتاب سیاست بلکہ اس کا’’باب احتساب‘‘ جس کے بارے میں سابق دختر اول کا کہنا ہے’’یہ احتساب نہیں انتقام ہے‘‘ تو ان کے پاس اب دھول اڑانے، کنفیوژن پھیلانے کے علاوہ اور بچا ہی کیا ہے؟ جنگلی ا تھرے گھوڑے پر پہلی بار کاٹھی ڈالی جائے تو وہ بڑی ’’اڑی‘‘ کرتا ہے، پٹھے پر ہاتھ نہیں رکھنے دیتا، اندھا دھند دولتیاں چلاتا ہے کبھی اگلی ٹانگیں اٹھاتا ہے، اس کی بوٹی بوٹی سرکشی پر مائل ہوتی ہے لیکن پھر بتدریج وہ راہ راست پر آجاتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منہ زور، بے لگام اور اتھری ا شرافیہ کا بھی یہی حال ہے۔ یہ قانون کی کاٹھی اور انصاف کی لگام کے عادی ہی نہیں لیکن خیر ہے ’’چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ‘‘۔ یہ شتر بے مہار پہاڑ کے نیچے آتے رہے تو انہیں بھی اپنی اوقات کا اندازہ ہوجائے گا، سارے کس بل نکل جائیں گے اور پھر ان کا ’’تعاون‘‘ بھی قابل دید ہوگا۔صرف چند ماہ پہلے تک ان کی زبان درازیاں، اڑیاں اور دولتیاں یاد کریں۔ کوئی کہتا تھا’’ہم لوہے کے چنے ہیں‘‘ کوئی دم کے بغیر دم پر کھڑا ہو کر زمین تنگ کردینے کی دھمکیاں دیتا تھا، کوئی عوام کی عدالت کا پتا دیتا تھا لیکن اب اچھے بچوں کی طرح’’بی ہیو‘‘ کرنے لگے ہیں جس پر انہیں داد ملنی چاہئے لیکن یہ محاورہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ بلبل مر بھی جائے تو اس کے رنگ تبدیل نہیں ہوتے اور رسی جل بھی جائے تو اس کے بل بدستور قائم رہتے ہیں۔صرف چند ماہ قبل تک کوئی سوچ بھی سکتا تھا کہ.......حسین نواز اور حسن نواز اشتہاری ہوں گے۔نواز شریف، مریم اور صفدر پر 13اکتوبر کو فرد جرم لگے گی۔مریم اور صفدر اجازت کے بغیر بیرون ملک نہیں جاسکیں گے۔حسین نواز، حسن نواز کا مقدمہ الگ الگ، دائمی وارنٹ جاری کئے جائیں گے۔9اکتوبر 2017نوبجے فاضل جج محمد بشیر کمرہ ٔعدالت میں پہنچتے ہیں تو عدالتی اہلمد آواز لگاتا ہے’’نیب بنام نواز شریف حاضر ہو‘‘۔ 5منٹ بعد پھر یہی آواز گونجتی ہے اور جانے کب تک گونجتی رہے گی۔بھٹو کا عروج اپنی جگہ، انجام انتہائی المناک تھا لیکن وہ تاریخ میں ایک’’ٹریجک ہیرو‘‘ کے طور پر مقام پاکر محفوظ ہوگیا لیکن تین بار وزارت عظمیٰ دیکھنے کے بعد چشم فلک کیسے کیسے مناظر دیکھ رہی ہے، نشان عبرت پورا خاندان عبرت کا نشان ،الامان الحفیظ۔صرف کہنا کافی نہیں خدارا !ثابت کرو یہ احتساب نہیں انتقام ہے اور اسے ثابت کرنے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ پوری نہ سہی ادھوری منی ٹریل ہی’’انتقام‘‘ کے منہ پر دے مارو یا کسی اور طریقہ سے ثابت کردو کہ تمہاری آمدنیوں ا ور محیر العقول اثاثوں کے درمیان کوئی جائز تعلق ہے ورنہ کچھ دیر تو کچھ لوگوں کو کنفیوژ شاید کرسکو، آخر کار بچہ بچہ جان جائے گا، سمجھ جائے گا کہ فیصلہ مبنی برحق و انصاف تھا۔ آپ کی جانی پہچانی آمدنی اور اثاثوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے تو ا س ناقابل تردید حقیقت اور زندہ ثبوت کا کوئی جواز؟کوئی جواب؟جس سے ثابت کیا جاسکے یہ احتساب نہیں......انتقام ہے۔عوام کو بے وقوف بنانے کی یہ بھونڈی ترین کوشش ہے جو بری طرح ناکام ہوگی۔ یہ دعویٰ بھی بے بنیاد اور کھوکھلا کہ’’میرا جرم یہ کہ میں نواز شریف کی بیٹی ہوں‘‘......نہیں کہ اصل جرم یہ کہ آپ بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ’’بینی فشری‘‘ بھی ہیں۔ہم نے بھٹو اور بینظیر بھٹو کو بھی عدالتوں کا سامنا کرتے دیکھا ہے لیکن ان اوتاروں کے تو لچھن ہی اور ہیں کیونکہ انہیں ابھی تک چھوٹ در چھوٹ در چھوٹ حاصل ہے جو ناقابل برداشت ہوتی جارہی ہے۔ زرداری نے درست نشاندہی کی کہ نواز شریف انتشار پھیلانا اور سب کچھ عدلیہ اور افواج پر ڈالنا چاہتے ہیں تو شاید ذمہ داران کو بھی سمجھ اور ہوش آگئی ہے۔’’نیب‘‘ نے صفدر کی گرفتاری میں رکاوٹ ڈالنے پر وزراء اور ن لیگی کارکنوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے تو یہ’’کٹلری‘‘ بھی تب تک سرگرم ہے جب تک انہیں اپنے’’سرغنہ‘‘ کی بچت کی امید ہے جس کے بعد سوائے ان کے کوئی دور دور تک دکھائی نہیں دے گا جن کی تین تین نسلوں نے’’ن‘‘کا نمک کھایا اور اب تک اس حرام کو حلال کررہے ہیں۔احتساب کو انتقام قرار دینے والے جھوٹ کی چھوٹ تو کسی نہ کسی حد تک قابل فہم ہے کہ سسلین قبیلہ سسٹم کے ڈی این اے تک پہنچ چکا تھا لیکن اتنی بھی کیا یاری اور رواداری کہ انتشار تک کا این او سی جاری کردیا جائے؟آخر پر شیخ رشید کو شاباش اور اس کا شکریہ جس نے دھکے کھاکر’’قطری کارنامے‘‘ کی کھوج لگالی۔ قطری خط جتنا جھوٹا تھا، ’’قطری کارنامہ‘‘ اتنا ہی سچا ثابت ہوگیا تو سونے پر سہاگہ ہوگا جس کا سوفیصد کریڈٹ’’فرزند پاکستان‘‘ کو جائے گا۔منزل قریب ہے لیکن......چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔