ذہنی صحت کے دس انتہائی نقصان دہ عادات کونسی ہیں ؟

لاہور(ویب ڈیسک) یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جسم چاہے جتنا بھی مضبوط ہو اگر دماغی طور پر کمزور ہو تو دنیا میں آگے بڑھنے یا روشن مستقبل کا تصور تک ممکن نہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اکثر ذہنی مایوسی ہمارے کنٹرول سے باہر ہوتی ہے جیسے کسی پیارے کی موت، ملازمت ختم ہوجانا یا مالی مشکلات۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں ہمارے چھوٹے چھوٹے انتخاب یا چوائسز بھی ہمارے مزاج پر اندازوں سے زیادہ اثرات مرتب کرتے ہیں۔جیسے آپ کی سوشل میڈیا کی عادات، ورزش کا معمول یہاں تک کہ چلنے کا انداز تک آپ کی دماغی صحت پر اثرات مرتب کرتا ہے۔

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جارہا ہے، تو اپنی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کیلئے یہاں دی گئیں عادات ترک کردیں۔

یہاں ایسی ہی چند عادات کے بارے میں جانے جو ذہنی صحت کے لیے مضر ثابت ہوتی ہیں۔

جھک کر چلنا

ہماری ذہنی حالت ہمارے چلنے کے انداز پر مرتب ہوتی ہے مگر ایک تحقیق کے مطابق جب لوگ چلنے کے دوران اپنے کندھوں اور کمر کو جھکا لیتے ہیں تو انہیں چڑچڑے پن یا ناخوشگوار مزاج کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس طرح چلنے کے عادی افراد ذہنی طور پر مثبت تجربات کی بجائے منفی چیزوں کو زیادہ یاد رکھتے ہیں جو بتدریج ان کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے اور الزائمر امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ہر چیز کی تصویر لینا

اپنی زندگی کے ہر لمحے کی تصاویر لینے کی عادت لوگوں کے اندر اہم لمحات کو یاد کرنے کی صلاحیت کو ختم کرکے رکھ دیتی ہے۔ فائرفیلڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ہر وقت کیمرے کی آنکھ سے اہم لمحات کو دیکھنے کی عادت یاداشت میں اس منظر کی جزئیات کو سکیڑ کر رکھ دیتی ہے۔ محقق لنڈا ہینکل کے مطابق تصاویر لینے کی عادت یاداشت پر اثر انداز ہوتی ہے اور لوگ اپنی زندگی کے اہم لمحات کی بہت کم باتیں ہی یاد رکھ پاتے ہیں۔ تحقیق کے بقول تصاویر لیتے ہوئے لوگوں کی توجہ صرف ایک خاص چیز یا منظر پر مرکوز ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کی یاداشت زوم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتی ہے۔

ورزش نہ کرنا

اگر آپ ہفتہ بھر میں 3 روز بھی جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہو تو مایوسی کا خطرہ 19 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ لندن کالج یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جسمانی تحریک اور مایوسی کے درمیان واضح تعلق موجود ہے، آسان الفاظ میں جو لوگ جسمانی طور پر زیادہ متحرک نہیں ہوتے ان میں مایوسی کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے جبکہ ورزش یا کسی قسم کی جسمانی سرگرمی رکھنے والے افراد اس ذہنی عارضے سے کافی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔

ٹال مٹول کی عادت

کسی کام کے دوران آپ اسے کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں جس کی وجہ خوف یا یہ پریشانی ہوتی ہے کہ آپ کو ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑے تو اس عادت کو مستقل طور پر اپنا لینے کے نتیجے میں متعدد ذہنی امراض آپ کو اپنا شکار بناسکتے ہیں اور یہ کسی کام میں ناکامی سے زیادہ اعصاب شکن ثابت ہوتی ہے۔

زندگی کو بہت زیادہ سنجیدگی سے لینا

اگر آپ اپنے روزمرہ کے ہر مسئلے کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنالیتے ہیں تو بہت جلد کسی ماہر نفسیات سے علاج کراتے نظر آئیں گے درحقیقت متعدد طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہنسی ذہنی پریشانی و مسائل سے نجات کا سب سے بہترین راستہ ہے۔ درحقیقت ہنسی ذہنی پریشانی اور مایوسی کی سب سے بہترین دوا ہے اور اچھا امر یہ ہے کہ اس کے لیے آپ کے پیسے بھی خرچ نہیں کرنا پڑتے ہیں۔

نیند سے دوری

نیند دماغی صحت کے لیے سب سے اہمیت رکھتی ہے، ذہنی اور جذباتی صلاحیتیں اور جسمانی افعال سب نیند کے نتیجے میں دوبارہ تازہ دم ہوجاتے ہیں اور اس کے بغیر ذہنی نظام مسائل کا شکار ہونے لگتا ہے اور ڈیمنیشیا سمیت دیگر امراض جڑ پکڑنے لگتے ہیں جو ہوسکتا ہے کہ دور نوجوانی میں تو زیادہ تکلیف دہ نہ ہو مگر بڑھاپے کی شاہراہ پر قدم رکھنے کے بعد وہ آپ کو بری طرح دبوچ لیں گے۔

کبھی تنہا نہ ہونا

بچوں، کام، شادی اور دیگر سرگرمیوں کے نتیجے میں آپ کو کبھی تنہا رہنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ اپنے لیے کچھ وقت تنہائی میں گزارنا ذہنی تناﺅ میں کمی کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے اب چاہے وہ ایک منٹ، 10 منٹ یا ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو، اس کے بغیر آپ جو بھی کام کرتے ہیں مایوسی اور ذہنی تشویش جیسے عوارض آپ کو گرفت میں لیتے چلے جاتے ہیں اور زیادہ سنگین امراض کا باعث بن جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال

اگر تو آپ کسی سے رابطے کے لیے زبان کی بجائے ایس ایم ایس، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا کا استعمال زیادہ کرتے ہیں یا ان کو ہی ترجیح دیتے ہیں تو درحقیقت آپ اچھے دوستوں سے ہمیشہ ہی محروم رہیں گے، جبکہ فیس بک وغیرہ کے فرینڈز تفریح کے لیے تو ہوسکتے ہیں مگر ان سے دل کی باتیں نہیں کی جاسکتیں جس سے لوگوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ درحقیقت یہ سائٹس انسانی جذبات اور تجربات کا گلا گھونٹ دیتے ہیں، جس سے لوگوں کی ذہنی صلاحیتوں اور لوگوں کے ساتھ گھلنے ملنے میں دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔

موبائل فون کے بغیر زندگی لگتی ہو مشکل

کیا آپ کو یاد ہے کہ آخری بار کونسا دن تھا جب آپ اپنے موبائل سے مکمل طور پر دور رہے تھے؟ کچھ یاد نہیں تو یہ کوئی اچھی علامت نہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق موبائل ڈیوائسز نے انسانوں کو اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے اور ہم انہیں ہمیشہ آن رکھ کر درحقیقت اپنے جسم کو کبھی حقیقی آرام کرنے نہیں دیتے جس کی وجہ سے ہمارے جسم و ذہن ماضی کی طرح توانائی سے بھرپور نہیں رہتے، یہی چیز آگے بڑھ کر مایوسی یا ذہنی پریشانیوں کا گڑھ بن کر رہ جاتی ہے۔

بیک وقت کئی کام کرنا یا ملٹی ٹاسکنگ

ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بیک وقت کئی کام ایک ساتھ کرلے تاکہ وقت کی بچت ہوسکے بلکہ کئی بار تو نادانستہ طور پر یہ ہم ایسا ہی کررہے ہوتے ہیں جیسے فیس بک پر سرفنگ کے دوران ٹی وی دیکھنا اور موبائل فون پر مسلسل ایس ایم ایس کرنا وغیرہ۔ ایک تحقیق کے مطابق اگرچہ لوگوں کو لگتا ہے کہ بیک وقت کئی کرنے سے وہ زیادہ بہتر ورکر بن جاتے ہین مگر حقیقت میں ایسا ہوتا نہیں بلکہ یہ لوگوں کو ذہنی طور پر تناﺅ کا شکار کردیتا ہے جبکہ ہمارے تعلقات بھی ایک وقت میں کئی چیزوں پر توجہ مرکوز کرنے کے نتیجے میں متاثر ہوتے ہیں۔