الٹی گنتی(6اکتوبر 2017)روزنامہ جنگ

بے نظیر بھٹو اور ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کا انجام جاننے کے باوجود بے نظیر بننے کی خواہش مند دختر نیک اختر مریم (؟)نے ایک ٹویٹ میں خاصی سویٹ لیکن مضحکہ خیز بات کی ہے جس پر تبصرہ کرنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ میں نے دختر نیک و بلند اختر کے نام کے سامنے سوالیہ نشان کیوں بنایا۔ وجہ سادہ ہے کہ کبھی ’’مریم نواز‘‘ اور کہیں ’’مریم صفدر‘‘ لکھا جاتا ہے تو ایک بار واضح کردیں کہ انہیں کیسے لکھا ، بولا اور پکارا جائے، تب تک صرف مریم پر گزارہ کرتے ہیں اور اب ان کی وہ تاریخی ٹویٹ جس میں بیان کیا گیا کہ ’’جمہوریت نے آمریت کا اک اورنشان مٹا دیا شاباش ن لیگ‘‘ حالانکہ یہ بیچارہ اک بیجان نشان تھا۔ آمریت کا اصل جیتا جاگتا، پیشیاں بھگتتا زندہ نشان تو خود ابو جان ہیں جن کی درازیٔ عمر کے شوق میں تاریخ کے بدترین آمر جنرل ضیاء الحق نے اک دعا میں اپنی عمر بھی ان کو دان کردی تھی لیکن قربان جائیں اس سیاسی کلچر کے جس میں سوچ سمجھ اور ناپ تول کر بات کرنے کا رواج ہی نہیں۔ کچھ سال پہلے ایک کالم میں حاضر سروس سیاستدانوں کی اولادوں سے بہتر رویوں کی امید کا اظہار کیا تھا لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کام نہلے پہ دہلہ ہوگیا۔ ابو سیر تو بچے سوا سیر، اک ستیاناس تو اگلا سوا ستیاناس۔

ادھر ابو جان کی بھی سن لیں۔ اک تازہ ترین اخباری اطلاع کے مطابق نوازشریف نے پارٹی کے ذریعہ حکومت چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حکومتی عہدیدار نہ صرف پارٹی صدر کو جواب دہ ہوں گے بلکہ احکامات کی بجا آوری کے پابند بھی ہوں گے لیکن پھر لاکھ باتوں پر بھاری وہ بات یاد آتی ہے کہ بیشک میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔مجھے تو ارادے ہی نہیں، ان کا اور بہت کچھ بھی ٹوٹتا دکھائی دیتا ہے جو جرنیلوں اور ججوں پر بھی ’’گرفت‘‘ کے آرزومند ہیں.....’’مری دعا ہے تری آرزو بدل جائے‘‘ لیکن ہم جیسے گنہگاروں کی دعائوں میں اثر ذرا کم کم ہی ہوتا ہے۔ جنرل (ر) غلام مصطفےٰ نے کہا ’’ملک کے حالات غیرمعمولی ہیں۔ فوج پریشان ہے کیونکہ اسے تختہ مشق بنایا جارہا ہے جبکہ فوج کی کوشش ہے کہ ملک میں جمہوریت جاری رہے۔ فوج کے پاس کوئی آئینی آپشن نہیں لیکن وہ ملک کو ڈوبتا دیکھ کر خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران جنرل نے کہا ’’قوانین میں حکومتی ترامیم سے فوج تباہ اور پنجاب پولیس سے بدتر ہو جائے گی‘‘۔عوام، افواج اور عدلیہ کے علاوہ ہے کیا اس ملک کے دامن میں؟ سیاستدانوں سے لیکر سول سرونٹس تک ایک ایک کو اپنے دھیان میں لائیں اور پھر سوچیں اگر سب کچھ ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو حشر کیا ہوگا؟ انجام کیساہوگا؟ایک طرف پچھلے دنوں بھارت کے ایک مرکزی وزیر نے پاکستان کو چار ریاستوں میں تقسیم کرنے کی دھمکی دی ہے۔دوسری طرف سابق صدر آصف زرداری نے سنگین ترین الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ نوازشریف کو ’’گریٹر پنجاب‘‘ کے کیڑے نے کاٹ رکھا ہے۔تیسری طرف خود نوازشریف کیا سوچ کر بار بار بنگلہ دیش کا ذکر کررہے ہیں۔ بدھ کے روز الحمرا میں ورکرز سے یہ سوال پوچھنے کا کیا مقصد تھا ..... ’’جو کروں گا میرا ساتھ دو گے؟‘‘ ’’سویلینز‘‘ کو بہت شوق ہے کہ ان کی عزت کی جائے، انہیں اہمیت دی جائے، ان کی رٹ (WRIT) تسلیم کی جائے لیکن یہ ممکن نہیں کیونکہ جو گزشتہ کل کسی کا مالشیا، آج میرا بھونکا کل کسی اور کا بھونپو ہوگا، اس کی عزت تو میرے جیسا آوارہ سویلین بھی نہیں کرتا چہ جائیکہ ڈسپلن کے مختلف مراحل و مدارج سے گزرا ہوا فوجی ..... جو نفسیاتی طور پر انہیں حقیر ترین سمجھنے میں سو فیصد حق بجانب ہوگا۔ کیا یہ بے پیندے کے بدکردار لوٹے اس قابل ہیں کہ کوئی ان کی سنے یا عزت کرے.....اور وہ بھی صرف اس لئے کہ یہ اپنے اپنے علاقوں کے غریب، غرباء، ان پڑھ، مجبور انسان نما لوگوں کے ووٹ چھین کر، خرید کر، بٹور کر یا اچک کر معزز بنے پھرتے ہیں۔قارئین!’’اچک کر‘‘ سے خیال آیا کہ شاید ’’اچکنے‘‘ والا ہی ’’اچکا‘‘ ہوتا ہے لیکن اگر غلط ہو تو کوئی زبان دان مہربانی فرما کر تصحیح کر دے کیونکہ میں زبان بگاڑنے کا الزام نہیں سہار سکتا۔ اس کار خیر کیلئے ہمارے ٹی وی چینلز ہی کافی ہیں۔ ہاں تو میں عرض کررہا تھا کہ ’’عزت‘‘ غیر مشروط نہیں ہوتی۔ اس کی کچھ شرائط ہوتی ہیں، کوالیفائی کرنا پڑتا ہے۔ عزت کی حفاظت کیلئے اس کے گرد محنت، اہلیت، دیانت کی فصیل تعمیر کرنا ضروری ہے ورنہ اس کی عزت کون کرے گا جو ترقیاتی فنڈ کے نام پر حرام کھاتا ہو، جس کی سیاسی معراج صرف مرضی کا تھانیدار اور پٹواری لگوانا ہو، نوکریاں بیچنا جس کا پارٹ ٹائم کاروبار ہو، جس کی وجہ سے عوام کے خواب اور کورم ٹوٹتے رہیں، وعدہ فروش، احسان فراموش اور ربڑ سٹیمپ سے زیادہ کچھ بھی نہیں..... کارکردگی اورکردار کے بغیر یہی کچھ ہوگا جو پہلے ہوا، اب بھی ہورہا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے حوالہ سے بھی جھوٹ بولنے والے یہ عادی دروغ گو زیادہ دور تک نہ جانے پائیںگے، منہ سے کہیں بڑے نوالے حلق میں پھنسے تو نہ اُگلے جائیں گے نہ نگلے..... کیا پچھلا تجربہ کافی نہیں؟ پھر قدم بڑھایا تو پیچھے پھر کوئی نہ ہوگا لیکن اس با ر محسوس کچھ یوں ہورہا ہے یہ قدم نہیںبڑھائیں گے..... چھلانگ لگائیں گے اور پیرا شوٹ ساتھ رکھنا بھول جائیں گے۔بزرگ بچوں مع داماد شریف گرفتاریوں کے فیصلے ہو چکے شیخ رشید الیکشن ایکٹ کے پیچھے روانہ ہو چکا ڈار کی قسط وار کہانی تیزی سےانجام کی طرف رواں دواںدلدل مزید گہری ہورہی ہے گھیرا تنگ، شکنجہ شدید تراور شریف خاندان کی بیرون ملک جائیدادوں کے حوالے سے اہم پیش رفت جس کا حصہ اول یہ ہے کہ برطانیہ اور یو اے ای نے نوازشریف فیملی کے اثاثوں کی دستاویزات فراہم کرنے کیلئے ’’نیب‘‘ کو گرین سگنل دے دیا الٹے بھی لٹک جائیں، الٹی گنتی جاری رہے گی!