ٹائلٹ کی شکل والی یہ عمارت کس ملک میں واقع ہے اور کس کام کے لیے استعمال کی جاتی ہے ؟ پڑھیے ایک دلچسپ خبر

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کی صرف تہذیب و ثفافت ہی نہیں بلکہ فن تعیمر میں دلچسپ، منفرد اور انوکھا ہے۔ حالیہ عشروں میں چین میں تعیمر کی جانے والی کئی عمارتیں اپنی انفرادیت کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہو چکی ہیں۔یونیورسٹی کی اس عمارت میں ٹائلٹ بنانے کا پلانٹ نہیں ہے اور نہ ہی ٹائلٹ کے حوالے سے تحقیق کی جاتی ہے، بلکہ یونیورسٹی کی اس عمارت کا ٹائلٹ سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود حال ہی میں تعمیر ہونے والا یہ جدید بلاک ٹائلٹ بلڈنگ کے نام سے شہرت حاصل کر چکا ہے۔

یہ عمارت نارتھ چائنا یونیورسٹی آف واٹر ریسورسس اینڈ الیکٹرک پاور کا ایک بلاک ہے جسے چین کے وسطی صوبے ہنان کے شہر ژنگ ژو میں تعمیر کیا گیا ہے۔

چین میں گذشتہ کئی عشروں سے انفراسٹرکچر اور جدید عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی نئی عمارتیں اتنی منفرد اور انوکھی ہیں کہ انہیں دیکھنے والا حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔حالیہ دہائیوں میں چین نے جس تیز رفتاری سے معاشی ترقی کی ہے اور ایک پس ماندہ ملک سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کا درجہ حاصل کر لیا ہے، اسی طرح نئی عمارتوں کے فن تعمیر، ساخت اور ڈیزائن میں بھی جدید دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔واٹر ریسورسس اینڈ الیکٹرک پاور یونیورسٹی کا نیا بلاک بھی دلچسپ اور منفرد عمارتوں میں شامل ہے۔بارہ منزلہ یہ تدریسی بلاک اپنی شکل و شباہت میں حیرت انگیز طور پر ٹائلٹ سے ملتا ہے۔ اپنی اسی مشابہت کی وجہ سے یہ عمارت ٹائلٹ بلڈنگ کے نام سے مشہور ہوئی ہے۔

چین کے ایک اخبار ہنان ڈیلی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ عمارت یونیورسٹی کے ان گریجوایٹس کے لیے بنائی گئی ہے جو اپنی کمپنیاں شروع کرنا چاہتے ہیں اور اپنے کاروبار میں دلچسپی رکھتے ہیں۔اخبار نے لکھا ہے کہ اگرچہ یہ پانی کے وسائل سے متعلق یونیورسٹی کی عمارت ہے لیکن نقشہ بنانے والوں کے شاید وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ یہ عمارت دور سے ٹائلٹ جیسی دکھائی دے گی۔یونیورسٹی انتظامیہ اور سرکاری ادارے چاہے کچھ بھی کہتے رہیں، ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی لاگت سے مکمل ہونے والی اس عمارت کو سوشل میڈیا پر لوگوں نے ٹائلٹ بلڈنگ‘کہنا اور لکھنا شروع کر دیا ہے۔دو حصوں پر مشتمل یہ عمارت پچھلے ہی سال مکمل ہوئی ہے ۔اس کا ایک حصہ بیضوی ہے جو ٹائلٹ پر بیٹھنے والے حصے جیسا دکھائی دیتا ہے۔ جب کہ عمارت کا دوسرا حصہ مستطيل ہے جو بیضوی حصے سے کافی بلند ہے۔ چنانچہ جب دونوں عمارتوں کو ایک ساتھ دیکھا جاتا ہے تو یہ گمان گذرتا ہے کہ وہ ٹائلٹ کے پانی کا ٹینک ہے۔یونیورسٹی کے طالب علم بھی اپنی یونیورسٹی کی نئی عمارت کی ساخت کو مزاح کے انداز میں لے رہے ہیں۔ کئی طالب علموں نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ جب عمارت بن رہی تھی تو ہم ایک دوسرے سے مذاق میں کہتے تھے کہ یونیورسٹی کے لیے ایک بڑا ٹائلٹ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن اب جب یہ عمارت مکمل ہوئی ہے تو وہ حقیقتا ٹائلٹ جیسی ہی لگ رہی ہے۔سوشل میڈیا پر ایک اور طالب علم نے لکھا ہے کہ کیا اس عمارت کو رفع حاجت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی نے سوشل میڈیا پر ان تبصروں کے بعد اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ چین کی کئی عمارتیں اپنی ساخت اور طرز تعمیر کی بنا پر دنیا بھر میں شہرت حاصل کر چکی ہیں، جیسے مثال کے طور پر بیجنگ میں چائنا سینٹرل ٹیلی وژن سی سی ٹی وی کی عمارت ہے، جسے دنیا میں ایک’ بڑی نیکر‘کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ٹائلٹ بلڈنگ اور بڑی نیکر پر ہی کیا موقوف، آپ چین کے جس حصے میں بھی چلے جائیں، وہاں کی اکثر عمارتوں کی ساخت اور طرز تعمیر اچھوتا اور منفرد محسوس ہوگا۔ یہ آج کے چین کی بات نہیں ہے بلکہ وہاں ماضی قدیم سے ہی حیرت انگیز اور منفرد تعمیرات ہو رہی ہیں، جس کی ایک نمایاں مثال دیوار چین ہے، دنیا بھر میں کہیں بھی اس جیسی کوئی اور فصیل موجود نہیں۔(ش س م۔ ن)