قلت زر او ر کثرت زر(03 اکتوبر 2017)روزنامہ جنگ

 

روہنگیا مسلمانوں پر تو غیر مسلم ظلم ڈھارہے ہیں لیکن پاکستانی مسلمانوں اور اقلیتوں پر ظلم ڈھانے والے کون ہیں؟ پاکستانیوں کو مسلسل دہکتے ہوئے کوئلوں پر گھسیٹا جارہا ہے۔ ابھی چند روز پہلے بجلی تین روپے90پیسے فی یونٹ کے حساب سے مہنگی کی گئی اور اب پٹرول، ڈیزل2اور مٹی کا تیل 4روپے مہنگا ہوجانے پر مجھے جرمن نازیوں کی بدنام زمانہ گسٹاپو یاد آئی جس نے ٹارچر کے حیرت انگیز طریقے متعارف کرائے جن میں سے ایک یہ تھا کہ پٹ سن جیسی کسی شے کی رسی اپنے ٹارگٹ یا شکار کے جسم پر جگہ جگہ مختصر وقفوں کے بعد ڈھیلے ڈھالے انداز میں یوں باندھ دیتے جیسے ہندو لڑکیاں ’’راکھی‘‘ باندھتی ہیں۔ بازئوں، ٹانگوں، چھاتی پر رنگز کی شکل میں یہ جڑی بوٹی باندھے، لپیٹنے کے بعد ان پر پانی کی پھوار ڈالی جاتی تو کچھ دیر بعد رسی کے وہ ڈھیلے سے رنگز آہستہ آہستہ سکڑنے لگتے۔ پہلے انسانی کھال کو کاٹتے ہوئے یہ رسیاں گوشت میں دھنستی جاتیں اور سلوموشن میں گوشت سے گزر کر ہڈیوں کو سلائس کرتے ہوئے، ہڈیوں کے اندر گودے میں سے ہوتے ہوئے ربربینڈ کی طرح آپس میں مل جاتیں، جتنی جگہ یہ رسی باندھی گئی ہوتی، انسانی جسم اتنی’’گنڈیریوں‘‘ میں ہی تقسیم ہوجاتا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کی نوبت کم ہی آتی کیونکہ بڑے سے بڑا پھنے خان بھی پہلے مرحلہ پر ہی ناکردہ جرائم بھی تسلیم کرلیتا تھا۔پاکستان کے حکمران بھی گزشتہ کئی عشروں سے پاکستانیوںکے ساتھ یہی کچھ کررہے ہیں۔ معاشرہ کی بنیادی ساخت، ہیئت اور معاشی بنت ہی کچھ ایسی کردی گئی ہے کہ پورا معاشرہ اک بہت بڑے ٹارچر سیل میں تبدیل ہوچکا ہے۔ جہاں تمول اور فراوانی ہے، ان کے دیدوں سے پانی ڈھل چکا، کھاتے پیتے لوگ ہوائی دیدہ ہوچکے، ان کے دلوں سے حیا اور ہمدردی ہجرت کرچکی۔ ویسے بھی ہماری کھالیں کافی سخت اور موٹی ہیں۔ عام لوگ تو کیا دانشور ٹائپ لوگ بھی ترقی یافتہ ملک گھومنے جاتے ہیں تو سیٹیاں مارتے جاتے، شاپنگ بیگز اٹھائے واپس آتے ہیں۔ آٹے میں نمک برابر بھی ایسے نہیں جو وہاں جاکر کڑھتے، جلتے، مرتے ہوں کہ یہ قوم کہاں پہنچ گئی، ہم کن گٹروں میں پھنسے ہیں، ان کی ترجیحات کیا اور ہماری فخریہ پیشکش کیا؟ ابھی چند روز قبل’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں عائشہ بخش نے پروٹوکول اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالہ سے سوال کیا تو میرا فوکس یہ نہیں تھا کہ ملکی خزانے پر اس کا کتنا بوجھ پڑتا ہے، میرا سارا زور اس پر تھا کہ اس بدمعاشی کے عوام کی اجتماعی نفسیات پر کتنے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اجتماعی نفسیات ہی مسخ ہوجاتی ہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ کہ ترجیحات ہی حیات ہے اور یہاں جن کی اپنی زندگیاں، رہن سہن خوشگوار اور ہموار ہیں، انہیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں کہ بازار میںکوئی چیز کس بھائو بک رہی ہے۔ رہ گئے حکمران طبقات تو ان سے زیادہ ظالم، ضدی، بےضمیر کوئی ہونہیں سکتا کہ ان میں سے بیشتر کی تاریخ اور ڈی این اے ہی ایسا ہے۔یوں تو غربت، افلاس، محرومی، عسرت کے ڈائریکٹ اور دور سے دکھائی دینے والے اثرات ہی کم بھیانک نہیں لیکن اس کے سائیڈ ایفیکٹس، آفٹر ایفیکٹس، فوری اور مستقل یعنی نسل در نسل چلنے والے اثرات بھی دلخراش ہی نہیں پوری قوم کے لئے تباہ کن ہوتے ہیں۔ملکی وسائل کی بےرحمانہ، غیر منصفانہ، ناجائز اور غلط تقسیم انسانی معاشروں کو کھوکھلاکردیتی ہے جن کے پاس بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے بھی کچھ نہیں وہ بتدریج انسانیت، خودداری، عزت نفس کے مدارج سے نیچے گرتے پھسلتے چلے جاتے ہیں۔ خوشامد، جی حضوری، چاپلوسی، کام چوری، بہانے بازی، جھوٹ، گندگی، ڈھٹائی وغیرہ ان کی ’’خصوصیات‘‘ قرار پاتی ہیں اور دوسری طرف جن کے پاس ڈھیروں دولت جمع ہوجائے وہ بھی انسانیت سے اس طرح گر جاتے ہیں کہ غرور، تکبر، سستی، کاہلی، سازش، عیاشی وغیرہ ان کی پہچان بن جاتی ہیں۔ مختصراً یہ کہ قلت زر ہی نہیں کثرت زر بھی اتنی ہی تباہ کن ہے۔ٹالسٹائی نےدلچسپ کہا کہ اگر کسی رات اچانک کوئی ایسی وبا پھیلے جس سے دنیا بھر کے امیر، کبیر، راجے، مہاراجے، رائے ،رئیس، جاگیردار، سیٹھ ، ساہوکار یعنی طاقتور خوشحال لوگ سب کے سب مرجائیں تو نظام عالم میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا لیکن اگر اسی وبا کے نتیجہ میں دنیا بھر کے کسان، مزدور، ہنر مند، ڈرائیور، خانسامے، بیرے، چوکیدار وغیرہ موت کے گھاٹ اتر جائیں تو دنیا دوزخ بن جائے۔یہاں اس بات کی وضاحت کردوں کہ میں ’’مساوات‘‘ کی حقیقت سے واقف اور یہ جانتا ہوں کہ انسان نہ برابر ہوتے ہیں نہ ہوسکتے ہیں کیونکہ خود خالق نے انہیں ایک جیسا نہیں بنایا۔’’مساوات‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک انسان کی بنیادی ضروریات کا تعلق ہے، وہاں ہم سب برابر ہیں کیونکہ سب کو سانس کے لئے آکسیجن ، پیاس کے لئے پانی، بھوک کے لئے کھانا، سرپر چھت، بچوں کے لئے تعلیم، بیماریوں کے لئے علاج، ظلم کی صورت میں انصاف کی یکساں ضرورت ہے،لیکن میں کن بھینسوں کے آگے بین بجارہا ہوں جو یہ بھی نہیں جانتے کہ ہمارے ہاں کی فی کس آمدنی میں ایسی چومکھی مہنگائی تو تاتاریوں اور نازیوں کے مظالم سے بھی بدتر ہے۔صرف عالی ظرف اور عالی دماغ حکمران ہی جان سکتے ہیں کہ قلت زر اور کثرت زر کے درمیان توازن قائم رکھنا کیوں ضروری ہے اور رکھا کیسے جاسکتا ہے جبکہ یہاں تو وہ صوفی شاعر یاد آتا ہے جس نے کہا تھا؎’’نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نہ پایا‘‘