احتجاج ،احتجاج، احتجاج : بالآخر مولانا فضل الرحمٰن نے بھی احتجاج کا اعلان کردیا، تاریخ مقرر

کوئٹہ (ویب ڈیسک) مستونگ واقعے پر مولانا فضل الرحمٰن نے اتوار کے روز یوم احتجاج کا اعلان کردیا،امیر جمعیت علمائے اسلام ف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور جمہوریت کے ساتھ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مستونگ میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی رہنما عبدالغفوری حیدری پر ہونے والے خود کش حملے کی مذمت کے سلسلے میں چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے امیر جمعیت علمائے اسلام ف مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے مستونگ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔مولانا فضل الرحمٰن نے بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اتوار کے روز یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ اپنی منزل کی طرف ہمارا سفر جاری رہے گا،جو ریاست کے دشن ہیں ،وہ اپنی مرضی کی حکمرانی چاہتے ہیں، ان عناصر کو شکست ہوچکی ہے، ان میں سکت نہیں کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچا سکیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ ریاست کی ذمےداری ہے کہ وہ ملک کی نمائندگی کرنے والی شخصیات کو تحفظ فراہم کرے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک نفسیاتی اور اعصابی جنگ ہے، جو ہم نے جیت لی ہے، ہمیں یکجہتی کا عملی طور پر مظاہرہ کرنا ہوگا۔

اس موقع پر چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ جنرل مشرف کے دور میں جو جنگ مسلط ہوئی یہ اس کا نتیجہ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں جھونک دیا گیا، اس میں یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالغفور حیدری پر حملہ پاکستان کے پارلیمان پر حملہ ہے، ہم دشمن کو بتادینا چاہتے ہیں کہ اس بزدلانہ حملے سے عوام مرغوب نہیں ہوں گے، مولانا کو زخم آئے ہیں،جس کے باوجود ان کے حوصلے بلند ہیں۔(ش س م۔ س)