بائیکاٹ ، بائیکاٹ ، بائیکاٹ

اس بات سے تو آپ بھی اتفاق کریں گے  کہ تعلیم اور سیاست  دنیا کے مقدس ترین پیشے ہیں  مگر پاکستان میں ہمارے نام نہاد عوامی نمائندوں  نے سیاست  کو طوائف  کے پیشے سے بھی زیادہ بدنام  بنا دیا ہے  ۔

اگر آپ  نوجوان نسل یا سکول میں زیر تعلیم بچوں  سے پوچھیں کہ وہ بڑے ہو کر اورمستقبل میں  کیا بننا چاہتے ہیں  تو جواب میں وہ آپ کو دنیا کا ہر پیشہ گنوا دیں گے  مگر شاید ہی کوئی  ایک آدھ بچہ  یا جوان ہو  جو سیاستدان بننے  کی خواہش رکھتا ہوگا ۔

چند روز قبل  صوبہ پنجاب کے ایک دور افتادہ  اور پسماندہ ترین گاؤں  میں ایک  بابا جی  جو ملکی سیاست  پر بھی اچھا خاصا تبصرہ کر لیتے ہیں  کی باتیں سننے کا اتفاق ہوا  بقول بابا جی  الیکشن سے چند ہفتے قبل  اپنے اپنے حلقوں   کے خادم ہونے کے دعویدار  اور الیکشن کے بعد  لاہور اور اسلام آباد  میں ڈیرے ڈال لینے  والے ان نام نہاد رہنماؤں سے ہمیں جان چھڑا لینی چاہیے اسی میں ہماری بھلائی اور پاکستان کی بقا ہے ۔

بقول بابا جی  اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں اقتدار  نئے خون اور نوجوان نسل  کو سنبھالنا چاہیے اب ہمارے ملک میں بھی غریبوں موچیوں  نائیوں اور ترکھانوں کے بچوں کو خود سیاست میں   قدم رکھنا چاہیے  جاگیردار سرمایہ دار اور پجیرو و پراڈو گروپ   سے نجات حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہمیں  ملکر  الیکشن 2018  میں   ان نام نہاد لیڈروں کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے  جن کی  اپنے اپنے حلقے میں شہرت  نااہل نکمے اور صرف الیکشن سے  قبل عوا م کو دیدار کرانے والوں کی ہے   عوامی مسائل کے حل اور اپنے علاقے میں ترقیاتی کاموں کی طرف جن کی ذرا بھی توجہ نہیں  ، پاکستانی قوم  مل جل کر  اور یک جان ہو کر  آنے والے الیکشن  میں انکے منہ پر زور کا تھپڑ رسید کرے ۔ اور انہیں اس انداز  میں شرمسار کرے کہ وہ اسکے بعد کاغذات نامزدگی جمع کرانے اور لیڈر کہلانے کی جرات نہ کریں ۔

جب ان بابا جی سے پوچھا گیا کہ ان جعلی لیڈروں کے منہ پر تھپڑ کیسے رسید کیا جائے جب کہ یہ لوگ تو درجنوں سیکورٹی گارڈز اور  کلاشنکوف برداروں کے گھیرے میں ہوتے ہیں  تو بابا جی کہنے لگے۔

 اگر پورا حلقہ  اس بات پر متحد اور متفق ہو جائے  کہ کچھ بھی ہو جائے  ووٹ بنک  پر اکڑنے والے  عوامی مینڈیٹ کے دعوایدار  اور آپ کے ووٹ کے حقدار آپ کے بھائی  آپ کے خادم    کہلانے والوں  کو ایک ووٹ بھی  نہ ڈالا جائے  تو مطلوبہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے یہی ان بے  شرم   اور فراڈیو ں کے لیے کرارا تھپڑ ہو گا ۔ جب ان انتخابات کا نتیجہ نکلے گا  اور   صفر کی تعداد میں ووٹوں  کی صورت  میں  انکی ناک کٹ جائے گی ان کی ضمانتیں ضبط ہو جائیں گی  تو پھر یہ زندگی بھر اپنے علاقے اور حلقے  میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔ اور   سر منہ چھپا کر کہیں دور نکل جائیں گے  پھر ہمارے ضلعے علاقے اور حلقے ان سرمایہ دار جاگیر دار  پراڈو اور پجیرو مارکہ سیاستدانوں کےقبضہ سے آزاد ہو جائیں گے ۔ تو ہمارے  عام گھروں سے تعلق رکھنے والے چھوٹے زمینداروں  موچیوں  ترکھانوں اور  مزدوروں  و نائیوں کے بیٹے اتنی ہمت پکڑ سکیں گے کہ اپنے علاقے کے رہنما لیڈر اور سیاستدان  خود بنیں ۔ پھر ہمارے ملک میں بھی لیڈر اور رہنما  کی اہلیت و قابلیت  علم و دانش اور دیانت و ایمانت ہونگی نہ کہ  دولت کوٹھی  سیکورٹی گارڈ اور کالی پراڈو ۔۔  یہی  ہم  میں سے نکل کر سامنے آنے والے اور ہمارے مسائل کا ادراک رکھنے والے  تعلیم یافتہ نوجوان  ہی ہمارے لیڈر ہو  سکتے ہیں اور یہی ہمارے مسائل حل کر سکتے ہیں ۔

 بابا جی کی ان باتوں کا راقم کے دل و دماغ پر تو گہرا اثر ہوا ، آپ کیا کہتے ہیں اپنی رائے ضرور دیجیے

شیر سلطان ملک حسن نثار ڈاٹ پی کے میں سینئر نیوز ایڈیٹر کے طور پر فرائض سر انجام دیتے ہیں