یہ کس کا پاکستان ہے ؟؟؟

کتنا خوش کن اور دلفریب نعرہ ہے  تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے جو   زبان پر لاتے ہی  بے انتہا  امارت  و ملکیت  کا احساس ہوتا ہے  انسان اپنے آپ کو  کھلے آسمانوں میں پرواز کرتا محسوس کرتا ہے۔ لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے  تو صاف  پتہ چلتا ہے  کہ یہ نہ تو تیرا پاکستان ہے  نہ میرا پاکستان ہے ۔۔۔تو پھر  آخر یہ کس کا پاکستان ہے ، آئیے جائزہ  لیتے ہیں ۔

آپ صبح  گھر سے دفتر     کے لیے اپنی موٹر سائیکل پر نکلتے ہیں  مین روڈ     پر پولیس کے شیر جوان آپ کو مشکوک جان کر روک لیتے ہیں جب کہ آپ کے ساتھ ہی اس ناکے پر پہنچنے والے پراڈو والے   صاحب  پولیس کے جوانوں کے سیلوٹ   کا جواب سر کے ہلکے سے اشارے سے دیتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔ پھر آپ کی جامہ تلاشی ہوتی ہے اور آپ سے کچھ بھی برآمد نہ  ہو تو  اس کا مطلب ہے چائے پانی  دے کر آپ کی جان چھوٹ جائے گی، تو ثابت ہوا کہ یہ نہ تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان ہے یہ تو پراڈو اور مرسڈیز والوں کا پاکستان ہے ۔

آپ اور میرے جیسے غریب کی  بیوی بہن یا بیٹی  5 دس ہزار روپے کی سونے کی انگوٹھی چرانے کے الزام میں نہ صرف مالکن کے ہاتھوں لوہے کی گرم سلاخوں سے داغی جاتی ہے بلکہ پولیس کو بلا کر اسے گرفتار کرایا جاتا ہے اور قانون کے یہ علمبردار  سزا کے طور پر  اسکی عزت بھی لوٹ لیتے ہیں  اسکا باپ بھائی یا شوہر  تھانے کے مین گیٹ  سے سر ٹکراتے رہ جاتے ہیں  لیکن بڑے لوگ  اسے جیل پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں جہاں  ہر روز ایک قیامت اس کے انتظار میں ہوتی ہے ۔جبکہ اسی ملک کی  ڈالر گرل  اربوں روپے کے کئی لمبے لمبے  ہاتھ مار کر  بھی قانون  کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتی ہے   کچھ عرصہ تو قوم کو بیوقوف  بنایا جاتا ہے  بالآخر  یہ ڈالر گرل اپنے محسنوں  کے پاس بیرون ملک  جا کر  شہزادیوں کی طرح خوش  و خرم  رہنے لگتی ہے ۔

تو  پھر سمجھ میں آیا یہ نہ تیرا پاکستان ہے  نہ میرا پاکستان ہے  یہ ڈالر گرل  اور  انگوٹھی والی مالکن کا پاکستان ہے ۔

پاکستان کے دوردراز  گاؤں  میں ایک تین بچوں کی ماں  غربت اور  بھوک سے روتے اپنے تین بچوں  کی حالت سے دلبرداشتہ ہو کر  اپنے پھولوں اور کلیوں کو ساتھ لیتی ہے  اور جا کر قریبی نہر میں کود جاتی ہے  جب کہ اسی ملک کی دختر اول  جو کوئی سرکاری  اور عوامی عہدہ نہ ہونے  کے باوجود  ملک کے سیاہ و سفید  کی مالک   ہے  ایک وقت کے ناشتے اور میک پر اتنی رقم اڑا دیتی ہے  جس میں  اول الذکر  غریب ماں اور اسکے تین بچوں کا  2 ماہ کا راشن آسکتا ہے  تو پھر آپ ہی بتائیے یہ کس کا پاکستان  ہے  یقیناً یہ لاڈو رانی کا پاکستان ہے  غریب کی بیٹی  اس پاکستان  میں   صرف نہر میں کود جانے  خود کو آگ لگا لینے  چوہے مار گولیاں کھا کر مرنے کے لیے پیدا ہوتی ہے ۔

مندرجہ بالا مثالوں سے تو یہی ثابت ہوتا  ہے کہ یہ  نہ تیرا پاکستان ہے نہ  میرا پاکستان ہے ۔ آپ کا کیا خیال ہے اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیے

 

blogsher sultan malik