ظالم حکمران کا انجام

لاہور (ویب ڈیسک) ایک حاکم رعایا پر بہت ظلم کرتا تھا اور لوگوں کا مال زبردستی چھین کر بادشاہ کے خزانے میں جمع کرتا تھا تاکہ خزانہ بھر جائے۔ اس کو یہ خبر نہ تھی کہ جو شخص لوگوں پر ظلم کرتا ہے خدا تعالیٰ ایک دن انھیں لوگوں کے ہاتھوں اس کو تباہ کر دیتا ہے۔

آگ خشک دانہ کو اتنی تیزی سے نہیں جلاتی جتنی جلدی مظلوم کی آہ ظالم کو جلا ڈالتی ہے!

آپ دیکھتے ہیں کہ شیر سب جانوروں کا بادشاہ کہلاتا ہے اور گدھے کو ذلیل جانور سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بوجھ اٹھانے والا گدھا اس شیر سے اچھا ہے جو ان کو چیر پھاڑ کر کھا جاتا ہے!

بے چارے گدھے کو یوں تو بدتمیز کہا جاتا ہے لیکن وہ انسانوں کا بوجھ اٹھاکر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا ہے اس لیے وہ انسان کو زیادہ پیارا ہے۔

بوجھ اٹھانے والے بیل اور گدھے ان آدمیوں سے بھی اچھے ہیں جو دوسروں کو ستائیں!

قصّہ مختصر کہ ایک بار بادشاہ کو حاکم کی چند بُری عادتوں کا علم ہوگیا۔ اس کو گرفتار کرایا اور طرح طرح کی سخت سزائیں دے کر مار ڈالا۔

جب تک مخلوق کی دل جوئی نہ کروگے بادشاہ کی خوشنودی حاصل نہ ہوگی۔ اگر تم چاہتے ہو کہ خدا تم پر مہربان ہو تو خدا کے بندوں پر تم بھی مہربانی کرو!

کہتے ہیں اس کے ہاتھوں ستائے ہوئے ایک مظلوم کا گذر اس جگہ پر ہوا جہاں حاکم کو سزا دی جا رہی تھی۔ اس نے وہاں ٹھہرکر اس کی حالت دیکھی اور کہا۔

جس شخص کو کوئی بڑا عہدہ اور اختیارات حاصل ہوں اس کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ شیخی مار کر لوگوں کا مال مفت میں کھا جائے اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ اگر کوئی شخص سخت ہڈی حلق سے اتارنا چاہے تو وہ آسانی سے اترسکتی ہے لیکن جب ناف میں جاکر پھنس جائے گی تو پیٹ بھی پھاڑ دے گی۔(ش س م۔ ن)

 
Loading...