شہزادے کی سخاوت

لاہور (ویب ڈیسک) ایک شاہزادے کو بہت سی دولت اپنے باپ سے ترکہ میں ملی۔ اس نے دل کھول کر روپیہ خرچ کیا اور خوب سخاوت کی۔ فوج اور رعایا کی بھلائی کے لیے بہت سا مال صرف کر دیا۔

اگربتّی کو ڈبیہ کے اندر بند رکھا ہے تو اس کی خوشبوٗ نہیں پھیلے گی مگر جب وہ آگ میں جلائی جاتی ہے تب عنبر کی طرح عمدہ خوشبوٗ دیتی ہے۔

اگر تم بڑے صاحب عزت بننا چاہتے ہو تو سخاوت کرو، اس لیے کہ جب تک تم کھیت میں دانہ نہ بکھیروگے اناج نہیں اُگے گا۔

شاہزادے کے پاس بیٹھنے والے لوگوں میں سے ایک ناتجربہ کار شخص نے شاہزادے کو نصیحت کرنا شروع کیا اور کہا۔ پہلے بادشاہوں نے اس دولت کو بڑی محنت سے جمع کیا تھا اور اس کو ملک کی ضرورت کے لیے محفوظ کر رکھا تھا۔ تم اس کو خرچ کرنے سے ہاتھ روک لو۔ کیا معلوم آئندہ کیسا موقع پڑ جائے۔ دشمن بھی گھات میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ ضرورت کے وقت تم عاجز اور مجبور ہو جاؤ۔

اگر تم اپنا خزانہ لوگوں میں بانٹ دو گے تو ہر گھر والے کو ایک ایک چاول کے برابر حصّہ ملے گا اور خزانہ ختم ہو جائے گا۔

کیوں تم ہر ایک سے ایک جَو بھر چاندی لے کر جمع نہیں کرتے ہو کہ۔ تمھارے پاس ایک خزانہ جمع ہو جائے۔

شاہزادے کو اس شخص کی بات ناگوار ہوئی۔ سن کر منہ پھیر لیا اور اس کو جھڑک دیا اور کہا۔ خدا نے مجھ کو سلطنت کا مالک بنایا ہے تاکہ خود کھاؤں اور دوسروں میں تقسیم کروں۔ میں چوکیدار نہیں ہوں کہ مال و دولت کی رکھوالی کروں۔

قارون جیسا دولت مند مر گیا جس کے پاس خزانوں سے بھرے ہوئے چالیس مکان تھے۔ اب کوئی اس کا نام بھی نہیں لیتا (کیونکہ وہ ہر وقت دولت بڑھانے کی فکر میں رہتا تھا اور دوسروں کو نہیں دیتا تھا) اور دیکھو! ایران کا مشہور بادشاہ نوشیرواں نہیں مرا کیونکہ وہ بہت انصاف پسند اور سخی تھا۔ اُس کا نیک نام آج بھی زندہ ہے۔ لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں اور اس کا نام عزت سے لیتے ہیں۔(ش س م۔ ن)

 

 
Loading...