زیرو سے ہیرو تک کا سفر:اداکاری میں آنے سے پہلے نواز لدین کس طرح اپنی گزر بسر کیا کرتے تھے ؟حیرت کے جھٹکے کے لیے تیار ہو جائیں

ممبئی(ویب ڈیسک ) بالی ووڈ کے مقبول ترین اداکارنوازالدین صدیقی محنت، کوشش اور کامیابی کی اعلیٰ مثال ہیں لیکن فلموں میں انٹری سے قبل نوازالدین نے نہایت غربت کے دن دیکھے ہیں جب کہ زندگی کی گاڑی کوکھینچنے کیلئے وہ معمولی ملازمت کرنے سے بھی کبھی نہیں گھبرائے۔

نوازالدین صدیقی کا شماربالی ووڈکے ان اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کڑی محنت اورکافی جدوجہد کے بعد بھارت کے مقبول ترین اداکار کا اعزاز حاصل کیا ہے، نوازالدین صدیقی کا تعلق بھارتی ریاست اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے، بچپن ہی سے ان کی دہلیز پرغربت نے ڈیرے جمائے ہوئے تھے لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور آج ان کا شمار بالی ووڈ کے صف اول کے اداکاروں میں ہوتا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ میں انٹری سے قبل نواز زندگی کی گاڑی کو رواں رکھنے کیلئے کھلونے بنانے والی ایک کمپنی میں بطورسیکیورٹی گارڈ تعینات تھے۔ نواز الدین صدیقی نے گزشتہ روز اپنی نئی فلم ’’بابوماشائی بندوق باز‘‘ کی تشہیرکے سلسلے میں ایک جامعہ میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں کے بارے میں بات کی۔اداکار نے کہا کہ وہ 1993 میں مظفرنگرسے دہلی اورپھرممبئی آئے، بنا پیسوں کے زندگی گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے لہٰذا انہوں نے زندگی کی گاڑی کو رواں رکھنے کیلئے سیکیورٹی گارڈ کی معمولی سی نوکری کی جہاں کئی بار فیکٹری کے مالک نے انہیں گیٹ کے باہر آرام کرتے ہوئے پکڑ لیا بعد ازاں انہوں نے وہ نوکری چھوڑدی۔اداکار نے کہا کہ دہلی آکرانہوں نے اداکاری کے اسکول میں داخلہ لیا اس کے بعد انہوں نے ممبئی کا رخ کیا جہاں انہیں متعدد فلمسازوں نے کئی باررد کیا لیکن نوازالدین صدیقی نے ہمت نہیں ہاری اورمسلسل کوششوں میں لگے رہے اور 2012 میں انہیں فلم ’’گینگز آف واسع پور‘‘ میں پہلی بارمضبوط کردارادا کرنے کا موقع ملا اوریہیں سے ان کے فنی سفر کا آغاز ہوا۔واضح رہے کہ نوازالدین صدیقی کا شماربالی ووڈ کے صف کے اداکاروں میں ہوتا ہے اوراب تک وہ شاہ رخ ، عامر اور سلمان خان سمیت فلم انڈسٹری کے متعدد اداکاروں کے ساتھ اداکاری کے جوہردکھا چکے ہیں۔

 
Loading...