سیاست میں کمزور دوستوں کا حصار(ڈاکٹر محمد اجمل نیازی) ۔۔۔ 19 اگست 2017

آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری ایک ساتھ بیٹھے پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر اچھا لگا۔ کسی سوال کے جواب میں زرداری صاحب نے کہا کہ میرے چیئرمین نے جو کہہ دیا ہے وہی میری رائے ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی زرداری صاحب کے بیٹے ہیں۔ زرداری صاحب نے بلاول کو اپنا چیئرمین کہا اور زرداری نے بلاول کو چیئرمین کہہ کر خطاب کیا اس سے یہ تاثر ختم ہو گیا کہ باپ بیٹے میں کوئی اختلاف ہے۔ بلاول نے گفتگو کی اور سوالوں کے جواب بھی دیے۔ آصف زرداری کا یہ جملہ بہت خوبصورت اور معنی آفریں ہے جو ایک سوال کے جواب میں تھا کہ آپ نے نواز شریف کی حمایت بھی کی تھی۔ زرداری صاحب نے کہا ’’ہم نے جمہوریت کا ساتھ دیا۔ حکومت کا ساتھ نہیں دیا۔‘‘ ایک اور بات بڑی ذومعنی ہے۔ ’’نواز شریف کا انداز حکمرانی سیاسی نہ تھا‘‘ مگر غیرسیاسی انداز کے کئی مطلب ہیں؟ آصف زرداری نے کہا کہ اسلام آباد سے لاہور آتے ہوئے جس گاڑی کے نیچے آ کے بچہ کچلا گیا وہ بی ایم ڈبلیو تھی۔ لوکل پولیس نے اس بارے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ بچے کے ماں باپ عمر بھر روتے رہیں گے۔ بلاول نے بھی جملہ پھینکا کہ قوم جانتی ہے۔ نواز شریف معصوم نہیں ہیں۔

بلاول کو سیاست میں آصف زرداری لے کے آئے۔ خود بیرون ملک چلے گئے اور بلاول کو پاکستان میں اپنے لیے ماحول بنانے کے لیے چھوڑ دیا۔ زرداری صاحب بہت گہرے اور مسلمہ سیاستدان ہیں۔ لوگ ا نکے اس جملے پر حیران ہیں۔ ’’مجھے شریف خاندان اب سیاست میں کہیں نظر نہیں آ رہا۔‘‘
آصف زرداری بہت دور تک حالات کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ حالات کو اپنے حق میں رکھنے کے لیے اپنے جذبات کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ انہوں نے بلاول کو سیاست میں لانے سے پہلے ان کو بھٹو صاحب اور بے نظیر بھٹو کی نسبت دی۔ ان کے بچے تو بلاول زرداری، آصفہ زرداری اور بختاور زرداری تھے۔ انہیں بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو زرداری، بختاور بھٹو زرداری بنا دیا۔ حیرت ہے کہ تمام لوگوں نے زرداری صاحب کے اس فیصلے کو قبول کیا اور اس بات کو قبول عام ملا۔ زرداری صاحب کے لیے لوگوں کا رویہ تنقید اور تمسخر کا رہا ہے مگر اب سب لوگ انہیں ایک کامیاب سیاستدان مانتے ہیں۔ صدر زرداری نے کمزور دوستوں پر کبھی انحصار نہیں کیا۔ انہوں نے ایوان صدر میں اپنی مدت اقتدار بڑے آرام اور بڑی شان سے پوری کی۔
نواز شریف نے اقتدار کی ہیٹ ٹرک کی۔ تین بار وزیراعظم بنے اور تینوں بار اپنی مدت پوری نہ کر سکے اور نکال دیے گئے۔ وہ آئین میں صادق اور امین کی شق کے حوالے سے باہر ہوئے۔ آئین میں یہ شق صدر جنرل ضیاء نے شامل کی تھی۔ وہ ایک فوجی حکمران تھے اور انہوں نے بھٹو صاحب کی حکومت ختم کی تھی۔ نواز شریف نے چار سال وزیراعظم ہائوس میں گزارے۔ انہوں نے تب اس طرح خیال نہ کیا کہ یہ شق آئین سے نکال دی جائے۔ ویسے سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا حکمران صادق اور امین نہیں ہونا چاہیے؟ یہ تو ایک سنگین صورتحال بن جائے گی۔ جو متنازعہ بھی ہو گی۔
مولانا فضل الرحمن کے لیے صحافت اور سیاست کے لوگ طرح طرح کی باتیں بناتے رہتے ہیں مگر انہوں نے نواز شریف کی اس بات سے صاف انکار کیا کہ آئین میں سے صادق اور امین کی شق نکال دی جائے۔ مولانا نے اس حوالے سے جرات کا اور ایمانداری کا مظاہرہ کیا اور اپنے حکومتی حلیف کی بات سے اتفاق نہ کیا۔ نواز شریف حکومت سے باہر ہو چکے ہیں تو یہ معاملہ فوری طور پر کیوں اٹھایا جا رہا ہے۔ اس سے فائدہ کس کو پہنچے گا؟؟
کلثوم نواز سے پہلے شہباز شریف کا نام لیا جا رہا تھا کہ وہ حلقہ 120 سے لڑیں گے اور مستقل وزیراعظم ہوں گے۔ شاہد خاقان عباسی عارضی وزیراعظم ہیں۔ اس سے پہلے وزرائے اعظم کے لیے یہ بات نہیں سنی تھی۔ نواز شریف اپنی فیملی کے علاوہ کسی پر اعتماد نہیں کرتے۔ شہباز شریف کے معاملے میں بھی عجیب صورتحال بن رہی ہے۔ جبکہ لوگ شہباز شریف کے لیے بہتر تاثر رکھتے ہیں۔
ویسے آصف زرداری کی اس بات سے اختلاف کی گنجائش کم ہو رہی ہے کہ اب شریف خاندان سیاسی منظر نامے پر کہیں نظر نہیں آ رہا۔ اس کے علاوہ کسی اور طرح سے نواز شریف کے خلاف کارروائی ہوتی تو وہ سیاسی شہید بن جاتے۔ ویسے وہ اب بھی اس بات کو اچھالنے کی کوشش کریں گے۔ یہ صورتحال ان کے حق میں نہیں ہے۔
شاہد خاقان عباسی دو ایک مہینوں میں وزارت عظمیٰ کی کرسی کا مزا چکھ لیں گے تو پھر نون لیگ کا کیا بنے گا۔ اس جماعت میں کئی گروپ بننے کی خبریں بھی عام ہو رہی ہیں۔ چودھری نثار کے حوالے سے بھی کئی خبریں اڑائی جا رہی ہیں۔ جس آدمی کو (ن) لیگ کا صدر بنایا گیا ہے۔ اس کا نام میں نے بھی پہلی بار سنا ہے۔ نواز شریف کی سیاست نہ سمجھ میں آنے والی پہیلی ہے۔ نواز اپنے کمزور دوستوں کے حصار سے کب نکلیں گے؟

 
Loading...