پاکستان میں پائے جانیوالے سیاسی سانپوں کی چار زہریلی اقسام

لاہور (شیر سلطان ملک)  کہتے  ہیں مومن ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جا سکتا  تو پھر ہم 22 کروڑ پاکستانی کیسے مومن  اور مسلمان ہیں  جو گزشتہ کئی دہائیوں سے  باربار ایک ہی سانپ سے ایک ہی جگہ پر ڈسوا رہے ہیں ۔؟؟؟

 ایک بار پھر سیاسی خرید و فروخت  ، عوام کو بیوقوف بنانے اور  انہیں سبز باغ دکھا کر  لٹیروں کے اقتدار کے ایوانوں  میں نقب لگانے کا موسم  آن پہنچا ہے  وہی سانپ جو ہمیں پہلے ڈستے آئے ہیں  اور وہی لٹیرے جو اس ملک کو پہلے لوٹتے آئے ہیں ، ایک بار پھر خود کو  محب وطن عوام دوست  ثابت کرنے کی دوڑ میں  ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کر رہے ہیں  ان میں سے بیشتر الزامات اگرچہ 100 فیصد درست ہیں  مگر یہ الزامات لگانیوالوں میں سے ہر ایک کا دامن  اتنا داغدار ہے  کہ یہ ہمیں جھوٹ کا پلندہ اور  محض سیاسی بیان بازی نظر آرہے ہیں ۔آئیے اب ہم آپ کو  ان سیاسی سانپوں  کی شناخت کروا دیں   اور ان سے بچاؤ کے طریقے بھی بتا دیں تاکہ  کم از کم اس بار  تو آپ ان سے ڈسے جانے سے بچ جائیں ۔

ان سانپوں کی چند اہم اقسام مندرجہ ذیل ہیں ۔

1۔ شریفانہ سانپ:  شریفانہ سانپ کو اگرچہ شکل وصورت سے  شریفانہ کہا جا سکتا ہے  ورنہ اس کا ڈنگ  اتنا  خوفناک اور زہریلا ہوتا ہے  کہ منٹوں نہیں بلکہ سیکنڈوں  میں اپنے شکار کو ڈھیر کر دیتا ہے ۔  ان سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے  کہ آپ ان کے جھانسے میں کسی  صورت نہ آئیں  انکی کسی بات ، رام کہانی  یا ٹریجڈی  کا یقین نہ  کریں  اور یہ پختہ ارادہ رکھیں  کہ چونکہ یہ سب سے زیادہ زہریلا سانپ ہے لہذا اسکے وار سے ہر صورت بچنا ہے۔

2۔ زردار سانپ : مال و زر کے نشانات اس سانپ کے  ظاہر پر جا بجا نظر آتے ہیں  اس سانپ کی جاگیر اثر ورسوخ  اور دہشت  کا دائرہ کافی وسیع ہوتا ہے  ۔ اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے یہ زردار سانپ  اپنے شکار کو دنیاوی لالچ دے کر اور دنیا سنوار دینے  کا جھانسہ دے کر  خرید لیتے ہیں  اور پھر ان کا شکار ہمیشہ انکے اشاروں پر چلتا ہے  اسکا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے  آنکھیں ہونے کے باوجود اندھا اور   کان ہونے کے باوجود کچھ سن نہیں سکتا ۔

اس سانپ سے بچنے  کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ  خود کو ہر طرح کے دنیاوی لالچ سے دور رکھیے  اور جب بھی ایسا سانپ کہیں سامنے آ جائے تو  جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو کا مسلسل ورد کریں۔

3۔ ڈیزل   پینے والا سانپ :  ہمارے ملک میں سانپوں کی ایک قسم  ڈیزل والے سانپ کی بھی  پائی جاتی ہے ، دراصل ڈیزل پی پی کر  اتنا زہریلا ہوچکا ہے   اب ڈیزل اور اس طرح کی دوسری چیزیں ہی اسکی واحد خوراک ہیں ۔ اس کا جسم مسلسل ڈیزل خوری یا ڈیزل نوشی کی وجہ سے اتنا پھیل چکا ہے کہ کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے  مگر تاحال اپنی تمام تر تباہیوں کے ساتھ ہمارے معاشرے میں پایا جاتا ہے اور سنا یہی جاتا ہے کہ ڈیزل والے سانپ کا ڈسا پانی نہیں صرف ڈیزل مانگتا ہے ۔ مسکراہٹ  ، فریب  اور ہٹ دھرمی اس سانپ کی نمایاں صفات ہیں ، بہر حال جہاں بھی اسے دیکھیے  اپنا راستہ بدل لیجیے ورنہ نہ صرف  دنیا بلکہ آخرت خراب ہونے کا   بھی قوی امکان ہے ۔

4۔  رنگ بدلنے والے سانپ :  ہمارے ملک میں رنگ بدل سانپ بھی بکثرت پائے جاتے ہیں  اگرچہ یہ سانپ بھی پہلے شریفانہ زردار اور ڈیزل والے تھے   مگر اپنی حرکات  کی وجہ سے ذلیل و رسوا ہو کر  کسی اور جگہ جا پہنچے  اس امید پر کہ  شریفانہ  اور زر دار سانپوں کے ساتھ بھوکوں  مرنے کی بجائے  موج مستی   اور شکار کے نئے افق تلاش کریں ۔ سچ تو یہ ہے کہ آپ کو ان منافق صفت  رنگ بدل سانپوں   سے  بہت زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے  کیونکہ یہ سانپ موقع ملنے پر اپنے محسنوں کو ڈسنے   سے بھی باز نہیں آتے ۔

شیر سلطان ملک    حسن نثار ڈاٹ پی کے میں بطور سینیئر نیوز ایڈیٹر   فرائض انجام دے رہے ہیں ۔