عالمی سطح پر کونسا شعبہ آج کل روزگار کی مشین کہلاتا ہے۔ کیرئیر کونسلنگ کے حوالہ سے بہت بڑی خبر آگئی

لندن (ویب ڈیسک)قابل تجدید توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی آئرینا کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں 9.4 ملین انسانوں کا روز گار اس سے جڑا ہوا ہے۔ان میں سے بھی 8.1 ملین سے زائد کارکن شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے، بائیو انرجی اور ’جیوتھرمی‘ جیسے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس شعبے میں روزگار کے مواقع میں 2014 اور 2015 کے درمیان عالمی سطح پر پانچ فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔اس کے علاوہ مزید قریب 1.3 ملین انسان مختلف ملکوں میں ہائیڈل پاور ورکس یا پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کرتے ہیں، جن میں ڈیموں کی تعمیر، انہیں فعال رکھنا اور بجلی کی پیداوار کے لیے پانی کے وسیع ذخائر کی دیکھ بھال کے شعبے شامل ہیں۔قابل تجدید توانائی کی عالمی تنظیم ’اِیرینا‘ کے ڈائریکٹر جنرل عدنان امین نے دبئی میں اپنے ادارے کی تازہ ترین رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ قابل تجدید اور ماحول دوست توانائی کے ذرائع ایک ایسا شعبہ ہیں، جس میں روزگار کے مسلسل نئے مواقع نے اسے عالمی افرادی قوت کے لیے ’روزگار کی مشین‘ بنا دیا ہے۔عدنان امین کے مطابق اس وقت عالمی سطح پر ایک تاثر یہ بھی ہے کہ قابل تجدید توانائی کا شعبہ اقتصادی حوالے سے روزگار کی منڈی کے لیے اب پہلے جتنا سود مند ثابت نہیں ہو رہا۔ ان کے بقول اس شعبے کے تازہ ترین عالمی اعداد و شمار اس رجحان کی نہ صرف نفی کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں مزید بہتری کی یقینی وجوہات موجود ہیں ۔