خطہ ارض پرنیاملک دریافت، مؤجدنےسب کوحیران کردیا

وارسا (ویب ڈیسک) پولینڈ کے وزیر خارجہ وتولد وچسکوفسکی کو ان کے ایک حالیہ بیان پر بہت مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق پولش وزیر خارجہ نے رواں ہفتے اقوام متحدہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سیکیورٹی کونسل کی نشست کیلئے مختلف ممالک کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اپنی ان ملاقاتوں کے بارے میں تولد وچسکوفسکی نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے سیکیورٹی کونسل کی نشست کے حوالے سے قائل کرنے کیلئے تقریباً 20 ممالک کے حکام سے ملاقات کی۔ جن میں کچھ کیربین اقوام کے نمائندے بھی شامل تھے۔ موصوف نے بتایا کہ مثال کے طور پر جن ممالک کے حکام سے انہوں نے ملاقات کی ان میں بیلزی اور ”سان ایسکوبار“ کے نمائندے بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ اگر پوری دنیا بھی چھان ماری جائے تو آپ کو ”سان ایسکوبار“ نام کا کوئی ملک اس خطہ ارض پر نہیں ملے گا۔ نہ جانے یہ پولش وزیر خارجہ کے ذہن کی اختراع تھی یا وہ اس وقت مذاق کے موڈ میں تھے۔

تاہم بعد ازاں میڈیا کی جانب سے نشاندہی کرنے پر انہوں نے کہا کہ وہ بہت تھکے ہوئے تھے۔ دراصل وہ سان کرسٹوبال کے الفاظ ادا کرنا چاہ رہے تھے۔لیکن تھکاوٹ کی وجہ سے زبان پھسلی اور ”سان ایسکوبار“ کے الفاظ ادا ہو گئے۔ وچسکوفسکی کا کہنا تھا کہ 22 گھنٹے کے ہوائی سفر اور کئی پروازیں بدلنے سے کسی کی بھی زبان پھسل سکتی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پولش وزیر خارجہ وتولد وچسکوفسکی کی جانب سے وضاحت کے باوجود کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ٹویٹر پر ایک صارف نے لکھا ہے کہ سیکیورٹی کونسل کی نشست کیلئے پولینڈ کو ”سان ایسکوبار“ کی بھرپور حمایت حاصل ہوگی۔(خ.و)