کانوں سے سونا نکالنے والے بچے کن حالات میں یہ کام کررہے ہیں اور بدلے میں انہیں کیا ملتا ہے؟جانیے اس رپورٹ میں

لندن (ویب ڈیسک)مالی گھانا اور برکینا فاسو سمیت دنیا کے مختلف غریب ممالک کی سونے کی کانوں سے سونا نکالنے والے ہزاروں بچے ایسے حالات میں کام کرتے ہیں کہ آپ ان کا حال جان کر غمزدہ ہو جائیں۔دنیا کے غریب ترین ملکوں میں شمار ہونے والے مغربی افریقی ملک مالی کی کانوں سے ہر سال تقریباً چھیالیس ٹن سونا برآمد کیا جاتا ہے۔ اس میں سے چار ٹن سونا مختلف خاندانوں کے زیر انتظام چھوٹی چھوٹی کانوں سے حاصل کیا جاتا ہے، جہاں سونا نکالنے کا کام زیادہ تر بچے انجام دیتے ہیں۔حقوقِ انسانی کی علمبردار تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق صرف مالی ہی میں اس طرح کی چھوٹی چھوٹی کانوں میں کام کرنے والے بچوں کی تعداد بیس اور چالیس ہزار کے درمیان ہے، جن میں سے کئی کی عمر چھ چھ سال بھی ہوتی ہے۔مالی میں اس طرح کی ایک کان کا دورہ کرنے والی ہیومن رائٹس واچ کی جولیانے کِپن برگ بتاتی ہیں: ’’مَیں یہاں یہ جان کر حیران رہ گئی کہ ایک سو پینتالیس بچے اسکول جاتے ہیں لیکن دو سو سے تین سو بچے کُل وقتی بنیادوں پر کانوں میں کام کرتے ہیں۔سطحِ زمین سے عمودی رُخ میں پچاس میٹر تک کا سیدھا گڑھا کھودا جاتا ہے اور نیچے جا کر مختلف سمتوں میں مزید سرنگیں کھودی جاتی ہیں۔ بچے اُن میں اُتر کر پھاوڑے کی مدد سے کھودتے ہیں اور تھیلوں میں مٹی اور پتھر بھر بھر کر اوپر لاتے ہیں۔

ان بچوں کی صحت کے بارے میں کِپن برگ بتاتی ہیں: ’’اس سخت اور نڈھال کر دینے والے کام کے نتیجے میں بچوں کو کمر، جوڑوں اور سر میں شدید درد رہتا ہے۔ بہت چھوٹے لیکن بھاری بوجھ اٹھانے والے بچوں کی ریڑھ کی ہڈی کو مستقل بنیادوں پر نقصان پہنچتا ہے۔‘‘

سوئٹزرلینڈ کی ایک غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ صحافی پیٹر ڈوئری کو بُرکینا فاسو میں یہ مشاہدہ کرنے کا موقع ملا کہ بچے نہ صرف معدنی کانوں میں بارہ بارہ گھنٹوں کی شفٹوں میں کام کرتے ہیں بلکہ اُن سے بھاری مشینوں پر بھی کام لیا جاتا ہے۔ہمسایہ ملک نائجر میں بچے پتھر کی اُن چکیوں پر کام کرتے ہیں، جہاں زمین سے برآمد کیے جانے والے پتھریلے مادوں کو پیس کر باریک کیا جاتا ہے۔ پھر بچے پارے کی مدد سے پتھریلے کیچڑ میں سے دھو دھو کر سونا الگ کرتے ہیں۔ یہ بچے چھوٹی چھوٹی شیشیوں میں موجود پارے کو کسی بھی طرح کے حفاظتی اقدامات کے بغیر استعمال کرتے ہیں۔اتنے خطرناک کام کے بعد بھی یہ بچے ہفتے میں محض تین یا چار ڈالر کے برابر رقم کما پاتے ہیں جبکہ بہت سے بچوں کو کام کے بدلے میں کچھ بھی نہیں دیا جاتا۔ ان تمام افریقی ملکوں میں بھی بچوں سے بیگار لیے جانے کے خلاف قوانین موجود ہیں لیکن افسوس کہ اُن پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔(ایس ایس ملک۔اویس)