مچھر سے پھیلنے والا انتہائی خطرناک مرض،طبی ماہرین کے تازہ انکشاف نے سب کو حیرت میں ڈال دیا

واشنگٹن(ویب‌ڈیسک)نئی نسل کی ایک ملیریا ویکسین کی انسانوں پر چھوٹے پیمانے پر آزمائش کے بعد اس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اس نئی ویکسین نے ملیریا کی وجہ بننے والے طفیلیے (پیراسائٹ) پلازموڈیئم فیلکی پیرم کے خلاف بھرپور کارکردگی دکھائی ہے۔ اگرچہ اسے انسانوں کی کم تعداد پر آزمایا گیا ہے لیکن افادیت کی وجہ سے اس کی رپورٹ سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔

ویکسین نے انسانی جسم میں ملیریا پیراسائٹ آنے کے بعد انہیں ختم کرنے والی اینٹی باڈی کی تیزی سے تیاری میں مدد دی۔ اس ویکسین میں پیراسائٹ کو کمزور کرکے شامل کیا گیا ہے اور اس کے لیے تین اہم جین نکالے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں چوہوں پر جب اصل پیراسائٹ ڈالا گیا تو وہ ملیریا سے محفوظ رہے تھے۔اگلے مرحلے میں اسے انسانوں پر آزمایا گیا اور انہیں ویکسین دینے کے بعد ملیریا پھیلانے والوں مچھروں سے درجنوں مرتبہ کٹوایا گیا۔ ان میں سے سب لوگ ملیریا سے محفوظ رہے اور کوئی سائیڈ افیکٹ بھی نہیں دیکھا گیا۔ویکسین کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اس کی ایک خوراک نہ صرف ملیریا سے بچاتی ہے بلکہ جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو بھی قوت دے کر ملیریا سے دیر تک لڑنے کے قابل بناتی رہتی ہے۔ اس لحاظ سے ماہرین ایک بہت مؤثر ملیریا ویکسین کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس اہم پیش رفت کو ملیریا پر کام کرنے والے عالمی ماہرین نے بھی سراہا ہے۔(ی)