پاکستان کے روبوٹ فرانس پہنچ گئے۔ہلالی پرچم بھی لہرا دیا

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستانی روبوٹس کی ٹیم دیگر ممالک کا مقابلہ کرنے کے لیے فرانس پہنچ گئی۔ جہاں یہ روبوٹس فٹ بال کے میچ میں شرکت کر رہے ہیں ۔ ان روبوٹس میں فرانس کے تیار کردہ ایلڈرباران روبوٹکس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ روبو کپ میں تیسری مرتبہ پاکستانی یونیورسٹی کے روبوٹس فٹ بال مقابلوں میں شریک ہوئے ہیں۔ ان روبوٹس کی جرسیوں پر ہلال (کریسنٹ) اور ستارے کے اسٹکر چسپاں ہیں۔ روبوٹس بھی فٹ بال کھیلتے ہوئے فاؤل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر گرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ پاکستان میں روبوٹس کے ساتھ فٹ بال کھیلنے کی تین ٹیمیں ہیں۔نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے سربراہ ڈاکٹر یاسر ایاز کا کہنا ہے کہ رواں برس کے فیسٹیول میں شرکت کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے جرمنی تک سفر اور قیام کے لیے پندرہ لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ اس رقم کے ذریعے تین طلبا روبو کپ کے فیسٹیول میں شریک ہوئے ہیں جبکہ یونیورسٹی میں اِس خصوصی پراجیکٹ میں کُل دس طلبا شامل تھے۔ ڈاکٹر ایاز کے مطابق اگلے برسوں میں ایسے مقابلے میں شرکت کے لیے وہ اسپانسر کی تلاش میں ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ طلباء کو اِس مقابلے میں شریک کیا جا سکے۔جرمن شہر لائپزگ میں روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کا یہ خصوصی فیسٹیول ستائیس جون سے لے کر چار جولائی تک جاری رہے گا۔ روبوٹکس صنعت میں مسابقت کے عمل کو تقویت دینے کے لیے روبوکپ کے فیسٹیول کی بنیاد سن 1997 میں رکھی گئی تھی۔ اس میلے میں روبوٹس کے درمیان ہونے والے فٹ بال مقابلوں کے فاتح کو روبو کپ سے نوازا جاتا ہے۔دنیا بھر میں سب سے پہلی روبوٹکس فٹ بال لیگ سن 1993 میں جاپان میں کھیلی گئی تھی۔ سب سے پہلا روبو کپ بھی جاپان میں منعقد کیا گیا تھا۔اِس فٹ بال گیم میں شریک ہر روبوٹ میں دو کیمرے نصب ہوتے ہیں۔ ان کیمروں سے تصویر روبوٹ کے اندرونی سسٹم میں داخل ہوتی ہے اور اُس کی تمام حرکات و سکنات اُسی سسٹم کی مرہونِ منت ہوتی ہیں۔ ابھی تک کچھ معاملات میں انسانی ہاتھ روبوٹس کی مدد کرتا ہے لیکن میچ کے دوران روبوٹس کی تمام موومنٹ اُس کے اندرونی سسٹم سے پیدا ہوتی ہیں۔