چکن نگٹس میں گوشت کے نام پر کیا ڈالا جاتا ہے؟ رپورٹ پڑھ کر آپ ان کو کھانے سے توبہ کر لیں گے

لاہور(ویب ڈیسک) چکن نگٹس موجودہ دور میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی خوراک ہے اور زیادہ تر بچے سکول میں چکن نگٹس لنچ کے طور پر لے کر جانا پسند کرتے ہیں، لیکن کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ چکن نگٹس کس چیز کے بنے ہوئے ہوتے ہیں. آئیے آج آپ کو چکن نگٹس کی حقیقت بتاتے ہیں کہ کیا ان میں چکن ہوتا ہے یا نہیں؟

بظاہر لگتا ایسا ہی ہے کہ یہ مرغی کے گوشت سے بنے ہوتے ہیں، اس لئے ماؤں کو صحت بخش بھی لگتے ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ اس بات کو جانتے ہوں گے کہ چکن نگٹس در حقیقت بنے کس کےہوتے ہیں اور ان میں چکن کتنا پایا جاتا ہے۔ چکن نگٹس میں قیمے کی بجائے چکن پیسٹ ڈالا جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ اس پیسٹ میں صرف چکن کا صاف ستھرا گوشت ہی استعمال ہوا ہو، اکثر ایسے نگٹس تیار کرنے والی کمپنیاں اس میں چربی، آنتیں، ہڈیاں اور ایسے ہی دیگر اجزا ڈالتی ہیں جنہیں عام طور پر قصائی چکن صاف کرتے ہوئے نکال کر پھینک دیتے ہیں۔ ان چیزوں میں ذائقہ تو ظاہر ہے چکن کا ہی آئے گا اور پیسٹ بنا ہونے کی وجہ سے کوئی ان اجزا کو شناخت بھی نہیں کر پائے گا، اسی وجہ سے یہ نگٹس ہاتھوں ہاتھ لئے جاتے ہیں اور مزے سے کھائے جاتے ہیں۔ امریکا میں یونیورسٹی آف مسیسپی میڈیکل سنٹر کی تحقیق کے مطابق اچھی سے اچھی کمپنیوں کے چکن نگٹس میں بھی نصف سے زائد حصہ انہی اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ تحقیق میں جب چکن نگٹس کا تجزیہ کیا گیا تو ان کا نصف سے زائد حصہ غیر صحت بخش اجزا پر مشتمل تھا اور اس میں صرف 15 سے 19 فیصد پروٹین پائی گئی۔ نگٹس میں شامل کیا جانے والا گوشت بھی عمومی معیار کے مطابق نہیں تھا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ چکن نگٹس کا شمار کم غذائیت والی مضر صحت خوراک میں کیا جانا چاہیے۔ اگر آپ کے بچے چکن نگٹس کے شوقین ہیں تو جان لیں کہ آپ اچھی خاصی رقم خرچ کر کے ان کے لیےخود بیماری خرید رہے ہیں۔ بکثرت نگٹس کھانے والے بچوں میں معدے اور انتڑیوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے ‘دی امریکن جنرل آف میڈیسن’ میں شائع کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چربی، ہڈیوں اور انتڑیوں کو شامل کیے بغیر نگٹس کو مارکیٹ میں مناسب نرخوں پر فروخت کرنا ممکن نہیں ہے۔ (ع – گ)