غم

بہت سادہ ہیں نقشے میرےتاریخی خزانے کے.....کچھ اپنے غم ہیں جاناں اور تھوڑے سے زمانے کے

اشارے

شاعری بھی کر چکے کالم بھی سارے ہو گئے.....عقل مندوں کے لئے کافی اشارے ہو گئے

من موجی

فقط اپنی دھن میں رہنا جو درست ہو وہ کہنا.......نہ تمنائے ستائش نہ کبھی ملال رکھنا

عشق

سب کی خطا وفا میں تھی، سب کا گناہ عشق تھا مجنوں کو ریت پی گئی، سوہنی چناب کھا گیا